:
Breaking News

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ہائی ویز پر بھاری گاڑیوں کی پارکنگ پر پابندی اور حفاظتی اقدامات لازمی

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

بھارت کی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے حق کی تشریح کرتے ہوئے ملک بھر میں سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ ہائی ویز پر پارکنگ، بلیک اسپاٹس اور حادثات سے متعلق اہم اقدامات کا حکم دیا گیا ہے۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت “زندگی کے حق” کی تشریح کو مزید وسعت دیتے ہوئے سڑک تحفظ کے حوالے سے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ زندگی کا حق صرف غیر قانونی طور پر جان لینے سے تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ ریاست کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ایسا محفوظ ماحول فراہم کرے جہاں انسانی زندگی کی حفاظت اور اس کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔

یہ فیصلہ جسٹس جے کے مہیشوری اور اے ایس چندورکر پر مشتمل بنچ نے ایک ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیا، جس میں ملک بھر میں بڑھتے ہوئے سڑک حادثات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

سڑک حادثات اور ریاست کی ذمہ داری

عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ قومی شاہراہیں اگرچہ ملک کی کل سڑکوں کا صرف تقریباً 2 فیصد حصہ ہیں، لیکن انہی پر تقریباً 30 فیصد اموات سڑک حادثات میں ہوتی ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بنیادی ڈھانچے اور انتظامی نظام میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک بھی قابلِ پرہیز حادثہ جس میں انسانی جان جائے، ریاستی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انسانی زندگی کی حفاظت سے بڑھ کر کوئی معاشی یا انتظامی مجبوری قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

قومی شاہراہوں پر نئے سخت قوانین

عدالت نے اپنے فیصلے میں ملک بھر میں قومی شاہراہوں کے لیے کئی اہم اور سخت ہدایات جاری کیں، جن میں سب سے اہم ہدایت یہ ہے کہ کسی بھی بھاری یا تجارتی گاڑی کو ایکسپریس وے یا ہائی وے پر غیر مجاز طور پر کھڑا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اب تمام بھاری گاڑیاں صرف مخصوص پارکنگ بے، آرام گاہوں یا سروس ایریاز میں ہی کھڑی کی جا سکیں گی۔

عدالت نے مزید کہا کہ ان ہدایات پر عمل کے لیے جدید ٹیکنالوجی جیسے ایڈوانس ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (ATMS)، GPS مانیٹرنگ اور وقت کے ساتھ تصویری ثبوت (time-stamped evidence) لازمی قرار دیے جائیں گے۔

NHAI اور ریاستی حکومتوں کو ہدایات

سپریم کورٹ نے قومی شاہراہ اتھارٹی (NHAI)، ریاستی پولیس اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان احکامات پر فوری اور سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

عدالت نے کہا کہ ضلعی مجسٹریٹ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک واضح Standard Operating Procedure (SOP) تیار کریں گے تاکہ سڑکوں پر مسلسل نگرانی اور گشت کو یقینی بنایا جا سکے۔

غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں پر پابندی

عدالت نے مزید حکم دیا کہ قومی شاہراہوں کے اطراف کسی بھی نئی دکان، ہوٹل، ڈھابہ یا تجارتی تعمیر کی اجازت فوری طور پر بند کی جائے۔

مزید یہ کہ جو بھی غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں، انہیں مقررہ وقت کے اندر ہٹانے یا منہدم کرنے کی کارروائی کی جائے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ہائی وے کے حفاظتی زون میں کسی بھی قسم کا تجارتی لائسنس، این او سی یا اجازت نامہ اس وقت تک جاری نہیں کیا جائے گا جب تک NHAI یا PWD سے پیشگی منظوری حاصل نہ کی جائے۔

حادثات کی وجوہات اور “بلیک اسپاٹس” پر توجہ

عدالت نے “بلیک اسپاٹس” یعنی وہ مقامات جہاں بار بار حادثات ہوتے ہیں، ان کی فوری نشاندہی اور اصلاح کا حکم دیا ہے۔

ہر ضلع میں خصوصی ہائی وے سیفٹی ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس میں پولیس، NHAI، PWD اور مقامی انتظامیہ شامل ہوگی۔

یہ ٹاسک فورس حادثات کی روک تھام، نگرانی اور فوری ردعمل کے لیے ذمہ دار ہوگی۔

کیس کی بنیاد

یہ فیصلہ ایک ازخود نوٹس کیس کے تحت آیا ہے جو 2 اور 3 نومبر 2025 کو راجستھان کے پھلودی اور تلنگانہ کے رنگاریڈی میں ہونے والے خوفناک سڑک حادثات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ ان حادثات میں مجموعی طور پر 34 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

عدالت نے کہا کہ ان حادثات کی بنیادی وجہ انتظامی غفلت، ناقص انفراسٹرکچر اور حفاظتی اقدامات کی کمی تھی۔

60 دن کی ڈیڈ لائن

سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ اداروں کو 60 دن کے اندر ان ہدایات پر مکمل عمل درآمد کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 30 دن کے اندر تمام موجودہ لائسنسز اور اجازت ناموں کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

نتیجہ: انسانی زندگی سب سے بڑی ترجیح

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ انسانی زندگی کی حفاظت ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ بھارت میں سڑک تحفظ کے نظام میں ایک بڑے اصلاحاتی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد حادثات کو کم کرنا اور شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنانا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *